جو مشکل ہے، تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا – علامہ اقبال


نہيں منت کش تاب شنيدن داستاں ميری
خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں ميری
يہ دستور زباں بندی ہے کيسا تيری محفل ميں
يہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں ميری
اٹھائے کچھ ورق لالے نے ، کچھ نرگس نے ، کچھ گل نے
چمن ميں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں ميری
اڑالی قمريوں نے ، طوطيوں نے ، عندلبوں نے
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں ميری
ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے
سراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں ميری
الہی! پھر مزا کيا ہے يہاں دنيا ميں رہنے کا
حيات جاوداں ميری ، نہ مرگ ناگہاں ميری
مرا رونا نہيں ، رونا ہے يہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں ميں ، خزاں ہر گل کی ہے گويا خزاں ميری
”دريں حسرت سرا عمريست افسون جرس دارم
ز فيض دل تپيدنہا خروش بے نفس دارم”
رياض دہر ميں نا آشنائے بزم عشرت ہوں
خوشی روتی ہے جس کو ، ميں وہ محروم مسرت ہوں
مری بگڑی ہوئی تقدير کو روتی ہے گويائی
ميں حرف زير لب ، شرمندۂ گوش سماعت ہوں
پريشاں ہوں ميں مشت خاک ، ليکن کچھ نہيں کھلتا
سکندر ہوں کہ آئينہ ہوں يا گرد کدورت ہوں
يہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کا
سراپا نور ہو جس کی حقيقت ، ميں وہ ظلمت ہوں
خزينہ ہوں ، چھپايا مجھ کو مشت خاک صحرا نے
کسی کيا خبر ہے ميں کہاں ہوں کس کی دولت ہوں
نظر ميری نہيں ممنون سير عرصۂ ہستی
ميں وہ چھوٹی سی دنيا ہوں کہ آپ اپنی ولايت ہوں
نہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پيمانہ
ميں اس ميخا نۂ ہستی ميں ہر شے کی حقيقت ہوں
مجھے راز دو عالم دل کا آئينہ دکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے
عطا ايسا بياں مجھ کو ہوا رنگيں بيانوں ميں
کہ بام عرش کے طائر ہيں ميرے ہم زبانوں ميں
اثر يہ بھی ہے اک ميرے جنون فتنہ ساماں کا
مرا آ ئينہ دل ہے قضا کے راز دانوں ميں
رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خيز ہے تيرا فسانہ سب فسانوں ميں
ديا رونا مجھے ايسا کہ سب کچھ دے ديا گويا
لکھا کلک ازل نے مجھ کو تيرے نوحہ خوانوں ميں
نشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ ميں گلچيں
تري قسمت سے رزم آرائياں ہيں باغبانوں ميں
چھپاکر آستيں ميں بجلياں رکھی ہيں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بيٹھيں آشيانوں ميں
سن اے غافل صدا ميری، يہ ايسی چيز ہے جس کو
وظيفہ جان کر پڑھتے ہيں طائر بوستانوں ميں
وطن کی فکر کر ناداں مصيبت آنے والی ہے
تری برباديوں کے مشورے ہيں آسمانوں ميں
ذرا ديکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھرا کيا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں ميں
يہ خاموشی کہاں تک؟ لذت فرياد پيدا کر
زميں پر تو ہو اور تيری صدا ہو آسمانوں ميں
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندوستاں والو
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں ميں
يہی آئين قدرت ہے، يہی اسلوب فطرت ہے
جو ہے راہ عمل ميں گام زن، محبوب فطرت ہے
ہويدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گا
لہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گا
جلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سے
تری تاريک راتوں ميں چراغاں کر کے چھوڑں گا
مگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پيدا
چمن ميں مشت خاک اپنی پريشاں کر کے چھوڑں گا
پرونا ايک ہی تسبيح ميں ان بکھرے دانوں کو
جو مشکل ہے، تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا
مجھے اے ہم نشيں رہنے دے شغل سينہ کاوی ميں
کہ ميں داغ محبت کو نماياں کر کے چھوڑوں گا
دکھا دوں گا جہاں کو جو مر ی آنکھوں نے ديکھا ہے
تجھے بھی صورت آئينہ حيراں کر کے چھوڑوں گا

Read the complete poem

اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ ۔ علامہ اقبال


کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں

مجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز

لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل

خشت بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجاز

ہوگئی رسوا زمانے میں کلاہ لالہ رنگ

جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبور نیاز

لے رہا ہے مے فروشان فرنگستاں سے پارس

وہ مےء سرکش حرارت جس کی ہے مینا گداز

حکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی

ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز

ہوگیا مانند آب ارزاں مسلماں کا لہو

مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز

گفت رومی ہر بناے کہنہ کآباداں کنند

می ندانی اول آں بنیاد را ویراں کنند

ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں

حق ترا چشمے عطا کردست غافل در نگر

مومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست

مور بے پر! حاجتے پیش سلیمانے مبر

ربط و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات

ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصار دیں میں ہو

ملک و دولت ہے فقط حفظ حرم کا اک ثمر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

جو کرے گا امتیاز رنگ و خوں ، مٹ جائے گا

ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر

نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی

اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر

تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استور

لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش

اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش

عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی

اب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ

تو نے دیکھا سطوت رفتار دریا کا عروج

موج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھ

عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے

اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھ

اپنی خاکستر سمندر کو ہے سامان وجود

مر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہان پیر، دیکھ

کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں

آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

آزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاس

سامنے تقدیر کے رسوائی تدبیر دیکھ

مسلم استی سینہ را از آرزو آباد دار

ہر زماں پیش نظر، ‘لایخلف المیعاد’ دار

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی ۔ علامہ اقبال


جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

کھلتے ہيں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

عطار ہو ، رومی ہو ، رازی ہو ، غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہيں آتا بے آہ سحر گاہی

نوميد نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ!

کم کوش تو ہيں ليکن بے ذوق نہيں راہی

اے طائر لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز ميں کوتاہی

دارا و سکندر سے وہ مرد فقير اولی

ہو جس کی فقيری ميں بوئے اسد اللہی

آئين جوانمردں ، حق گوئی و بے باکی

اللہ کے شيروں کو آتی نہيں روباہی

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر – علامہ اقبال


افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
کرتے ہيں خطاب آخر ، اٹھتے ہيں حجاب آخر
احوال محبت ميں کچھ فرق نہيں ايسا
سوز و تب و تاب اول ، سوزو تب و تاب آخر
ميں تجھ کو بتاتا ہوں ، تقدير امم کيا ہے
شمشير و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر
ميخانہ يورپ کے دستور نرالے ہيں
لاتے ہيں سرور اول ، ديتے ہيں شراب آخر
کيا دبدبہ نادر ، کيا شوکت تيموری
ہو جاتے ہيں سب دفتر غرق مئے ناب آخر
خلوت کی گھڑی گزری ، جلوت کی گھڑی آئی
چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب آخر
تھا ضبط بہت مشکل اس سيل معانی کا
کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب آخر

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے- علامہ اقبال‎


مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا

کیا خوب امیر فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا

تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا

تر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں، پر کیا لذت اس رونے میں

جب خون جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا

اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے

گفتارکا یہ غازی تو بنا ،کردار کا غازی بن نہ سکا

اپدیشک : نصیحت کرنے والا۔
پیازی : پیاز کا سا سرخ۔
سنوسی سے مراد سید محمد ادریس سنوسی جنہوں نے ۱۹۱۱میں ترکوں کے ساتھ مل کر اٹلی کا مقابلہ کیا تھا۔

امیر فیصل ۔ جس نے انگریزوں کے دمشق پر قابض ہونے کی خوشی میں چراغاں کیا۔


 

Introduction to Business Management

Introduction to Business Management

دلِ مرتضی، سوزِ صديق دے – علامہ اقبال


بجھی عشق کی آگ ، اندھير ہے

مسلماں نہيں ، راکھ کا ڈھير ہے

شراب کہن پھر پلا ساقيا

وہی جام گردش ميں لا ساقيا

مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا

مری خاک جگنو بنا کر اڑا

خرد کو غلامی سے آزاد کر

جوانوں کو پيروں کا استاد کر

ہری شاخ ملت ترے نم سے ہے

نفس اس بدن ميں ترے دم سے ہے

تڑپنے پھٹرکنے کی توفيق دے

دلِ مرتضی ، سوزِ صديق دے

جگر سے وہی تير پھر پار کر

تمنا کو سينوں ميں بيدار کر

ترے آسمانوں کے تاروں کی خير

زمينوں کے شب زندہ داروں کی خير

جوانوں کو سوز جگر بخش دے

مرا عشق ، ميری نظر بخش دے

[extract from Allama Iqbal’s ‘Saqi Nama’. To read the complete poem, visit the following link]
http://www.iqbal.com.pk/component/content/article/906-poetical-works/kuliyat-e-iqbal-urdu/bal-e-jibril/bal-e-jibril-manzomaat/664-saqi-nama