شرم مگر تم کو نہیں آتی – ماریہ علیم


 

 

4 thoughts on “شرم مگر تم کو نہیں آتی – ماریہ علیم

  1. ماریہ علیم صاحبہ،آپکی تحریر قابل_قدر ھے،ھم نے دین کو اپنے مزاج میں ڈھالنے کو کوشش_ناکام کی ھے،آج بھی تحمّل اور بیداری_شعورکے ساتھ ‏‏غیر جانبدار ھو کر تدّبر سے کام لیا جائے تو کم از کم دلوں کو پھر سے محبتوں سے آباد کر سکتے ھیں،انا اور طبقات میں محصور رہ کر ھم دین کیا زندگی کو ہی نہ سمجھ سکے،روح افروز تحریر کے لئے شکر گزار ھوں

    • تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ 2:134
      یہ وہ جماعتیں ہیں جو تم سے قبل گزرچکی ہیں۔ ان کو اُن کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمھارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی !!!!،

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.