مسجد قرطبہ ۔ علامہ اقبال


ہسپانيہ کی سرزمين ، بالخصوص قرطبہ ميں لکھی گئی

عشق کے مضراب سے نغمہ تار حيات
عشق سے نور حيات ، عشق سے نار حيات
اے حرم قرطبہ! عشق سے تيرا وجود
عشق سراپا دوام ، جس ميں نہيں رفت و بود
رنگ ہو يا خشت و سنگ ، چنگ ہو يا حرف و صوت
معجزہ فن کي ہے خون جگر سے نمود
قطرہ خون جگر ، سل کو بناتا ہے دل
خون جگر سے صدا سوز و سرور و سرود
شوق مري لے ميں ہے ، شوق مري نے ميں ہے
نغمہ ‘اللہ ھو’ ميرے رگ و پے ميں ہے
آب روان کبير! تيرے کنارے کوئی
ديکھ رہا ہے کسي اور زمانے کا خواب
عالم نو ہے ابھي پردہ تقدير ميں
ميري نگاہوں ميں ہے اس کي سحر بے حجاب
پردہ اٹھا دوں اگر چہرئہ افکار سے
لا نہ سکے گا فرنگ ميري نواؤں کي تاب
جس ميں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگي
روح امم کي حيات کشمکش انقلاب
صورت شمشير ہے دست قضا ميں وہ قوم
کرتي ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
نقش ہيں سب ناتمام خون جگر کے بغير
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغير

وادا لکبير، قرطبہ کا مشہور دريا جس کے قريب ہي مسجد قرطبہ واقع ہے

 

One thought on “مسجد قرطبہ ۔ علامہ اقبال

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.