خرد مندوں سے کيا پوچھوں کہ ميری ابتدا کيا ہے -علامہ اقبال


خردمندوں سے کيا پوچھوں کہ ميری ابتدا کيا ہے
کہ ميں اس فکر ميں رہتا ہوں ، ميری انتہا کيا ہے

خردمند: عقل مند
میں عقل مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیسے ہوئی تھی۔ میں تواپنی انتہا کی فکراور سوچ میں لگا رہتا ہوں۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدير سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تيری رضا کيا ہے

خودی کی ترقی سے انسان میں خدائی صفات پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ اپنی تقدیر خود سنوار سکتا ہے۔

مقام گفتگو کيا ہے اگر ميں کيميا گرہوں
يہی سوز نفس ہے ، اور ميری کيميا کيا ہے

مقام ِ گفتگو: بات یا اعتراض کرنے کا موقع
کیمیا گر: معمولی شے کو اعلی بنانے والا،مراد گھٹیا ذہنیت کو اعلیٰ ذہنیت میں بدلنے والا
سوزِ ِ نفس: جذبہ ِ عشق کی حرارت
کیمیا: وہ دوا جس سے کسی دھات کو سونا بناتے ہیں

اگر میں کیمیا گر ہوں تو اس پر بحث کی ضرورت کیا ہے؟ میری کیمیا گری تو یہی میرا سوز ِ نفس ہے۔ میری شاعری اور سوز و گدازکے اثر سے قوم بیدار ہو کر عمل کی راہ اختیار کرتی ہے تو یہی میری کیمیاگری ہوئی۔

نظر آئيں مجھے تقدير کی گہرائياں اس ميں
نہ پوچھ اے ہم نشيں مجھ سے وہ چشم سرمہ سا کيا ہے

ہم نشیں: ساتھ بیٹھنے والا
چشم ِ سرمہ سا :سرمہ لگی پرکشش آنکھیں
اے میرے ہم نشیں میں تجھے اس محبوب [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم] کی سرمہ لگی آنکھوں کے بارے میں کیا بتاوں؟ بس اتنا جان لے کہ ان کی آنکھوں میں مجھے تقدیر کی گہرائیاں نظر آتی ہیں۔

اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے ميں
تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبريا کيا ہے

مجذوب ِ فرنگی سے مراد جرمنی کا مشہور فلسفی نٹشے جو اپنے قلبی واردات کا صحیح اندازہ نہ کر سکا اور اس کے فلسفیانہ افکار نے اسے غلط راہ پر ڈال دیا۔
مقام ِ کبریا: اللہ تعالیٰ کا مقام و عظمت
اگر نٹشے اس دور میں ہوتا تو اقبال اسے سمجھاتا کہ مقامِ کبریائی کیا ہے۔

نواے صبح گاہی نے جگر خوں کر ديا ميرا
خدايا جس خطا کی يہ سزا ہے ، وہ خطا کيا ہے

نواے صبح گاہی: صبح سویرے اٹھ کر محبوب ِ حقیقی کے حضور گڑگڑانے کا عمل
جگر خوں کرنا: بے حد جان ماری کرنا، محنت کرنا
علامہ نے صبح اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑانے کی بات کی ہے. اس سے ان کا جگر پارہ پارہ ہو گیا ہے۔ وہ انتہائی درد مند اور حساس ہیں اور تما م انسانیت کے بارے میں سوچتے ہیں اور اسی کو انہوں نے اپنی خطا کہا ہے۔ جو کہ حقیقت میں خطا نہیں ایک خوبی ہے۔


Categories: Allama Iqbal | Tags: , , , , , , , | Leave a comment

Post navigation

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Create a free website or blog at WordPress.com.