مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے- علامہ اقبال‎


مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا

کیا خوب امیر فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا

تو نام و نسب کا حجازی ہے پر دل کا حجازی بن نہ سکا

تر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں، پر کیا لذت اس رونے میں

جب خون جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا

اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے

گفتارکا یہ غازی تو بنا ،کردار کا غازی بن نہ سکا

اپدیشک : نصیحت کرنے والا۔
پیازی : پیاز کا سا سرخ۔
سنوسی سے مراد سید محمد ادریس سنوسی جنہوں نے ۱۹۱۱میں ترکوں کے ساتھ مل کر اٹلی کا مقابلہ کیا تھا۔
امیر فیصل ۔ جس نے انگریزوں کے دمشق پر قابض ہونے کی خوشی میں چراغاں کیا۔

Categories: Allama Iqbal | Tags: , , , , , , , , | Leave a comment

Post navigation

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Blog at WordPress.com.